نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے

دنیا میں موجود کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے وا لا کوئی بھی شخص چاہے وہ اپنے خالق کا کوئی بھی شعوری تصور رکھتا ہووہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ وہ ایک دن لازمی مر جاے گا۔نہ ہی وہ اس دنیا میں اپنی مرضی سے آیا ہے نا ہی اس کی کوئی منطق ، سائنس یا ٹیکنالوجی یہاں سے واپس جانے روک سکے گی ۔سب کی زندگی کا امتحان ایک دوسرے سے مختلف ہے اور رزق اور آسائیشوں کی تقسیم بھی ۔ نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو نظر کی حد تک عقلمندوں کےلیے نشانیاں موجود ہیں۔انسان کی اپنی ذات کے اندر اس کا کوئی اختیار نہیں ،وہ اپنے اعضاء کو خود نہیں چلا رہا ۔ تمام جانور ، پرندے ،حشرات جو انسان سمیت اس روۓزمین پر موجود ہیں یہ سب اللہ کی رضا سے قائم و دائم ہے۔ان کا خالق ، رازق سوائے اللہ کے کوئی بھی نہیں اورنہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے ۔ وہ زندگی اور موت کا مالک ہے ، قادر مطلق ہے اور اس کی شان کے لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
آپ کا ر ب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے ) پسند کر لیتاہے ۔ ان لوگوں کے لیےکوئی اختیار نہیں ، اللہ پاک ہے اور ان سے کہیں اعلیٰ ہے جنہیں وہ شریک ٹھہراتےہیں۔ ( القصص - 68 )
یہ آیت جو سورہ القصص کی آیت نمبر 68 ہے بلاشبہ قرآن کی بہت پاور فل آیت ہے جس میں اللہ سبحان وتعالی کے سب سے بلند ختمی اور مکمل اختیار کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے ۔ یہ بات صاف صاف بتا دی گئی ہے کہ اللہ سبحان وتعالی کے علاوہ نہ ہی کسی کے پاس کوئی اختیار ہے اور نہاللہ کے علاوہ کوئی اور طاقت موجود ہے ۔ اس آیت کو آسانی سے سمجھنے کے لیے اسے تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
آیت کا پیغام:
آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے ) پسند کر لیتا ہے۔
پہلے حصے میں اللہ سبحان و تعالی نے اپنی بات کی ہے۔اپنے علم ، اپنی مشیت اور مکمل طاقت اور اختیار کو ظاہر کیا ہے۔
ان لوگوں کے لیے کوئی اختیار نہیں۔
دوسرے حصے میں اللہ نے خالق اور تخلیق کے رشتے کو ظاہر کیا ہے۔ اس میں اللہ کی تخلیق کی بات ہو رہی ہےجو کہ ہم انسان یعنی لوگ ہیں۔اس حصے میں اللہ سبحا ن و تعالی ٰہم سے ہی مخاطب ہیں اور ہمیں ہمارے ہی بارے میں بتایا جارہا ہے کہ "ان لوگوں کا کوئی اختیارنہیں”۔
اللہ پاک ہے اور ان سے کہیں اعلیٰ ہے جنہیں وہ شریک ٹھراتے ہیں۔
تیسرے حصے میں اللہ کی پاکیزگی بیان کی گئی ہے کہ وہ پاک ہے ۔ہر جھوٹ سے ،ہر برائی سے ،کمزوری سے ، ہر محتاجی سے ۔
یعنی ہر وہ چیز جو نا پسندیدہ ہے اللہ سبحان وتعالی اس سے پاک ہے۔اور ان سے کہیں اعلی ٰہے جن کو یہ لوگ اللہ کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں اور اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس آیت میں پہلی دو باتیں ایک دوسرے کے ساتھ موازنے کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ آئیے اس موازنے پر غوروفکر کرتے ہیں۔
تّدبُر:
آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پسند کر لیتا ہے۔
(مکمل اختیار)
R.H.S
ان لوگوں کے لیے کوئی اختیار نہیں۔
(کوئی اختیار نہیں)
L.H.S
اللہ سبحان وتعالی کی ذات کو مکمل طور پر اس دنیا میں ہی موجود ہوتے ہوئے اس انسا نی دماغ اور عقل کی محدود رسائی کے سا تھ سمجھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔لیکن ہم اپنی ذات سے کچھ نہ کچھ واقف تو ہیں ہی ۔ہر بات تو نہیں لیکن اپنے جذبات ،احساسات،علم اور بےبسی کو تو ہم جانتے ہی ہیں ۔تو ہم اسی موجودہ ڈیٹا کی بنیاد پر (لیفٹ ہینڈ سائیڈ )کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر یہ بات ثابت ہو گئی کہ : ” ان لوگوں کے لیے کوئی اختیار نہیں”
تو ( رائٹ ہینڈ سائید ) کہ سارا اختیار اللہ ہی کا ہے، خودبخود ثابت ہو جاے گی ۔تو شروع کرتے ہیں ہم (لیفٹ ہینڈ سائیڈ) سے ۔
لیفٹ ہینڈ سائیڈ
"ان لوگوں کےلیے کوئی اختیار نہیں۔”
انسان اور اُس کے رب کا رشتہ:
ہم سب جانتے ہیں کے ہم سب اللہ سبحان وتعالی کی تخلیق ہیں اور اللہ تعالی ہمارے خالق ۔ یعنی اللہ نے ہمیں بنایا ہے جیسے انسان کوئی پینٹنگ یا روبوٹ بناتا ہے ۔حا لا نکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس روبوٹ یا پینٹنگ کا اس کے خالق یعنی انسان کے سامنے کوئی اختیار نہیں ہو سکتا پھر بھی کتنی عجیب بات ہے نہ کہ یہی تسلیم شدہ بات ہمیں انسان اور اس کے خالق کے بیچ میں پھر بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
اللہ سبحان وتعالی نے بہت ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور پھر انسان کو تخلیق کیا ۔اور کہا کہ یہ میری سب سے بہترین تخلیق ہے ۔ یعنی اشرف المخلوقات ۔ یعنی سب سے خوبصورت پینٹنگ ۔انسان کو تخلیق کر کے اس کو درست کرنے کے بعد اللہ نے اس سے پہلے موجود اپنی بہترین تخلیق یعنی فرشتوں اور جنات (شیطان) کو انسان کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔جو کے سجدہ تعظیم تھا۔یعنی اللہ کی اس قدر خوبصورت اور بہترین تخلیق کے سامنےاس لیے جھک جاہیں کیونکہ یہ رب العالمین کی بہترین کاری گری ہے۔قرآن کریم میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا : آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا سواے ابلیس کے ، اس نے انکار کیا۔
( طہٰ - 116 )
اب اس بہترین تخلیق کے بارے میں اللہ سبحان وتعالی نے کہا ہےکہ ” ان لوگوں کے لیے کوئی اختیار نہیں ” اختیار نہیں مطلب وہ کسی چیز کو کنٹرول نہیں کر سکتے ۔کوئی اختیار نہیں مطلب کوئی بھی نہیں !کسی چھوٹی ، بڑی ، اندر باہر ، اوپر نیچے کی کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔نہ انسان کا اختیار اپنی ذات پر ہے نہ ذات سے باہر کسی چیز پر ۔ سب اللہ کی رضا سے ہی محوِ گردش ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت میں بیان کی گی ہے۔
نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے:
آیت کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھنے سے پہلے ہمیں اس بات کو دل سے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے۔ اور آیت کا تیسرا حصہ "اللہ پاک ہے اور ان سے کہیں اعلیٰ ہے جنہیں وہ شریک ٹھراتے ہیں۔" کسی وجہ سے ہی اس آیت کا حصہ ہے ۔ ہم اس کی وحدانیت اور طاقت کا اعتراف کریں یا نہیں ، اس کی ذات اس بات سے بلند ہے۔ ہدایت کی ضرورت تو ہمیں ہی ہے۔ ہم ہی ہر لمحہ اُس کے مختاج ہیں۔ اور وہ نہایت محبت کرنے والا ہے۔ تبھی یہ قرآن ہمارے پاس مو جود ہے۔ اس بات پر یقین کیا جا ئے کہ جو بات ہم سمجھنا چاہتے ہیں وہ ہمیں ہمارے رب نے بتائی ہے جس کی ذات پاک ہے ،ہر غلطی اور بُرائی سے، اور جھوٹ اُس کے ساتھ منسوب ہی نہیں کیا جا سکتا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علم حاصل کرنے کے لئے ہی اس کی باتوں پر غورو فکر کریں۔
ایک مودبانہ گذارش:
اس بات کو سمجھنے سے پہلے میں پڑھنے والے سب لوگوں سے یہ درخواست کروں گی کہ یہیں پر اس بات سے دل میں اختلاف پیدا کر کے اس لیے نہ پڑ ھیں کہ کوئی نہ کوئی بات ڈھونڈ سکیں جو اس با ت کو غلط ثا بت کرے ۔ بلکہ اس آرٹیکل کو اس لیے پڑھیں کہ یہ وہ بات ہے جو ہمیں ہمارے رب نے بتائی ہے تو یقینا یہ بات با لکل درست ہے ۔صرف ہمیں اس کو عقل و فہم سے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس بات پر اس لیے غورو فکر کریں کہ ہم اس بات کو اس کی حقیقت کے سا تھ جاننا چاہتے ہیں کہ آ خر اللہ نے ہمیں بتائی ہے تو یہ ثابت کیسے ہوتی ہے؟اگر آپ کے دل کا رجحان جھٹلانے اور مزاق اڑانے کے علاوہ ہو گا اور واقعی میں آپ جاننا چاہتے ہیں اور اس علم کو سیکھ کر اللہ کے قریب ہونا چاہتے ہیں تو جو اللہ کی طرف کا راستہ چاہتا ہے اللہ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول د یتا ہے۔اور میں گزارش کروں گی کہ اسی طلب کے ساتھ اس بات کو مزید جاننے کے لیے اس آڑٹیکل کو پڑھیں ۔
اختتام اور ایک زبردست سیریز کا آغاز:
اس آڑٹیکل میں ہم نے سورۃ القصص کی آیت 68 کو سمجھنے کے لیے اسے تین حصوں ہیں تقسیم کیا ہے ۔اور پہلے دو حصوں کو موازنے کے طور پر رایٹ ھینڈ سایئڈ اور لیفٹ ہینڈ سایئڈ بنا کر لکھا ہے تا کہ ہم لیفٹ ہینڈ سایئڈ کی بات کو سمجھیں تو رائٹ ہینڈ سایئڈ سمجھنا ہمارے لیے آسا ن ہو جائے۔ ۔اس سے آگے کے تمام آڑٹیکلز میں اس "انسان کے اختیار” والی بات سے جڑی ہر بات کا اللہ ہی کی توفیق سے جواب دینے کی کوشش کروں گی جو خود میرے ذہن میں اور مجھ جیسے اور بہت سے لوگوں کے ذہن میں آسکتے ہیں ۔ اِن شاء اللہ!
ایمان والا کون ہے
سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-9
مسلمان ہونا ،نسل اور ذات پات کے نظام کی طرح دنیا میں شناخت کی علامت تو ہوسکتی ہے لیکن اللہ کے ہاں ایمان والا کون ہے؟ اس بات کا تعین […]
عدل ہی تو ایمان ہے
سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-8
اپنے ارد گرد ہمیں بہت سے ذہین لوگ ملیں گے۔ جن سے دنیا کے کسی بھی موضوع پر بات کی جائے تو لگے گا جیسے وہ اس موضوع اور شعبے کو […]
حق کا انکار کرنے والے ظالم اور متکبر
سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-7
انسان کا غلطی کر دینا ایک لازمی امر ہے۔ کیونکہ وہ انسان ہے، فرشتہ نہیں۔ انسان سے خطا ء ہو جانے کے بعدہی تو اصل معاملہ شروع ہوتا ہے۔ خطاء کار […]