زبان: اردو / English
کہہ دیجئے : گواہی کے طور پر کون سی چیز سب سے بڑھ کر ہے؟ کہہ دیجئے: اللہ ہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے' اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے سے میں تمہیں اور جس جسکو یہ پہنچے سب کو ڈراوؤں کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کیساتھ دوسرے معبود بھی ہیں؟ کہہ د یجئے : میں یہ گواہی نہیں دیتا ۔ کہہ دیجئے کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک ٹھہراتے ہو۔
( الانعام۔ ۱۹)

ہمارے علم اورعقل کی وسعت محدود ہے

ہمارے علم اورعقل کی وسعت محدود ہے

محدود تو وہی ہوتا ہے جس کی کوئی حد ہوتی ہے۔اور حد تو اسی کی ہوتی ہے جس  پر کوئی حد لگانے والا ہوتا ہے۔  علم و عقل  دو ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات  قرار پایا ہے، اس علم  اور عقل کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کی انسان اپنی حد پہچان جائے۔ انسان جان جائے کہ وہ  بندہ  یعنی غلام ہے۔ ہمارے علم اور عقل کی وسعت محدود ہے۔ اور اس کا پیدا کرنے والا رب لا محدود ہے۔انسان کی کامیابی اللہ کی رضا میں ہے ۔اور یہ رضا اس کمال بندگی میں  چھپی ہے جس میں وہ اپنی حدود سے حقیقی معنوں میں واقف ہوتا ہے۔

آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے ) پسند کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے لیے کوئی اختیار نہیں ، اللہ پاک ہے اوران سے کہیں اعلیٰ ہے
جنہیں  وہ شریک ٹھراتے ہیں۔ 
                (القصص   -68 )                  

گذشتہ خلاصہ:

اس آیت کی د و اہم باتوں کو تفصیل سے جاننے کے لیے ہم نے ان کو الگ الگ کر کے   لیفٹ ہینڈ سائیڈ اور رائٹ ہینڈ سائیڈ کے طور پر لکھا تھا۔

آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے ) پسند کر لیتا ہے.

R.H.S

ان لوگوں کے لیے کوئی اختیار نہیں

L.H.S

انسان کے  اختیارات پر غورو فکر کرنے کے لیے ہم نے قرآن سے  آیات کا ایک سیٹ لیا تھا۔

اور یہ کہ انسان کے لیے بس وہی کچھ ہے جس کی اس نےسعی کی  ۔
(النجم-39 )
اور تم نہ چاہوگے مگر یہ کہ اللہ چاہے، بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔
(الدھر-30 )
پھر ان کے بعد ہم نے زمین میں تمہیں جانشین بنایا،تا کہ
ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔   
   (یونس-۱۴ ) 
حا لانکہ اللہ ہی نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے ۔
(الصّفٰت-96 )     

اس سیٹ سے جو پہلا سوال ہم نے حل کرنے کی کوشش کی تھی اس کے نتیجے سے یہ بات ثابت ہو گئی  تھی  کہ انسان کی چاہت اس کے اختیار میں نہیں ۔ اورقرآن  کی یہ  آیت ہمارے لیے بالکل کھل کر واضح  ہو گئی تھی ۔

اور تم نہ چاہوگے مگر یہ کہ اللہ چاہے، بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔
(الدھر-30 )

اس وضاحت کے ساتھ بات علم و عقل تک جا پہنچی  تھی ۔  علم اور عقل میں سے "علم” وہ ساری معلومات  ہیں  ،جو ہمیں باہر سے  حا صل ہوتی ہیں۔اور”عقل” وہ چیز ہے جو اس دماغ کی  صورت میں ہمارے اندر موجود ہے۔جس کی مدد سے ہم اپنے پاس موجود معلومات کو پروسیس کرتے ہیں۔کون سی بات درست ہے،اور  کون سی نہیں ،کس کو عمل میں لانا  ہے اور کس بات کو مسترد کرنا ہے یہ فیصلہ ہم عقل ہی سے کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ:

کیا  یہ دونوں خصوصیات علم اور عقل  خود سے حاصل کرنا  انسان  کے بس میں ہے ؟  کیا  یہاں کوئی  اختیار انسان کے پاس ہونے کی  صورت موجود ہے؟

یہی وہ اگلاتالہ ہے جس کی چابی ہمیں تلاش کرنی ہے ۔ آئیے بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے،  اس  تالے کی چابی  قرآن  میں ڈھونڈتے ہیں۔

حسن کلام الہٰی :

سا ری آیات  سورہ  یونس کی ہیں  اور تر  تیب کے ساتھ  ہمارے اس اہم سوال  کا جواب دے رہی ہیں  ۔ اور یہ   قرآن کی  بہت  خوبصورت بات  ہے کہ پاسورڈ کے سارے حروف اسی ترتیب سے موجود ہیں جس  ترتیب سے  ہمیں ان کی ضرورت ہے۔  یہ اس کے  کلام ا لہٰی  ہونے کا ثبوت ہے۔ان آیتوں  میں موجود  پاسورڈ  کے الفاظ کو  میں نے  رنگ سے نمایاں کیا ہے تاکہ  پڑھنے والوں کو اپنے تالے کی چابی مل جائے۔

(1)  اور جو لوگ اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ (کسی اور چیز کی ) پیروی نہیں کرتے مگر صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں  ۔ اور وہ محض قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔
     (یونس - حصہ  66)
( 2 ) وہی  (اللہ ) ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ، تاکہ اس میں سکون (حاصل )  کرو اور دن کو روشن بنایا ۔بیشک اس میں بہت  بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں۔                    
(یونس  - 67 )
 (3 )  انہوں نے کہا کہ اللہ نے  بیٹا بنا لیا ہے۔ وہ (اولاد ) سے  پاک ہے ، وہ بے پرواہ ہے، اسی کے لیے ہے جوکچھ  آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمھارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ۔ کیا تم اللہ کی بابت وہ بات کہتے ہو ،         جو تم نہیں جانتے-
(یونس   - 68 )
(4 ) ( اے نبی ) کہہ دیجیے :  بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے  ہیں وہ  فلاح نہیں پائیں گے ۔
(یونس -69 )
(5 )  پھر ہم نے نوح کے بعد کئی رسول بھیجے انکی  ( اپنی اپنی )  قوم کی طرف ،  تو وہ انکے پاس واضح دلائل  لے کر آئے  ، تو پھر  بھی نہ ہوئے  کہ وہ اس (ہدایت ) پر ایمان لے آتے جیسے وہ پہلے  جھٹلا چکے تھے ۔اسی طرح ہم حد سے گذرنے والوں کے دلوں پر  مہر لگا دیتے ہیں۔  
(یونس   - 75 )       

آیت  ۱

وہ لوگ جو اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ (کسی اور چیز کی )  پیروی نہیں کرتے مگر صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں ۔ اور وہ محض قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔                   
(یونس- حصہ آیت 66  )         

عقل کا تقاضا:

پہلی بات جو اللہ سبحان وتعالی ٰ نے بتائی ہے وہ یہ  ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے نزدیک مکمل خسارے میں ہوتے ہیں وہ دراصل  کر کیا  رہے ہوتے ہیں۔

"صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں”

اس کا مطلب ہے کہ علم و  عقل  تو ان کے پاس موجود ہے اور  اس عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ منطق استعمال کی جائے۔کڑیاں جوڑی جائیں اور حق بات کی تصدیق کی جائے ۔ لیکن اس آیت میں اللہ سبحان و تعالیٰ  نے اس بات کی نشاندہی  کی ہے کہ وہ  یہ طریقہ  کار اپناتے ہی نہیں ہیں۔مگر صرف گمان کی پیروی کر لیتے ہیں ۔ گمان یعنی صرف مفروضہ، جس کا کوئی ثبوت  یا دلیل موجود نہ ہو۔

صرف ایک  تخیل میں  گھڑی گئی  بات ہو ا ور بغیر تحقیق کے دل وجان سے اسے ہی سچ مان لیا جائے ۔ وہ لوگ   اس  تخیل سے پیدا ہونے والے سوالات  کے نتیجے میں  ایک کے بعد ایک بہت سے  تخیلات گھڑ تے  چلے جاتے ہیں ۔ جس کو اللہ سبحان و تعالیٰ نے اس آیت میں کہا ہے کہ وہ محض قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں یعنی ایک کے بعد ایک مفروضہ گھڑتے چلے جاتے ہیں۔  جن کی  نہ کوئی حقیقت ہوتی ہے نہ  دلیل ۔  اس  بات سے  یہ  اشارہ مل رہا ہے کہ علم اور عقل اُن  کے پاس موجود ہوتی  ہے  لیکن وہ ان دونوں کو استعمال میں ہی نہیں لاتے ۔ سارے دلائل کو   نظر ا نداز کر  دیتے ہیں   ۔ لیکن ہمیں اشارہ  نہیں پختہ ثبوت چاہیے ۔

آیت۲

وہی اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون ( حاصل ) کرو اور دن کو روشن بنایا ۔بیشک اس میں بہت بڑی نشانیاں  ہیں ان کے لیے جو سنتے ہیں۔ 
( یونس – 67 )  

آواز اور الفاذ سے  بالا تر واضح  علم:

علم اور عقل دونوں  موجود  ہیں، اس کا  ثبوت  اگلی  ہی آیت میں بہت خوبصورتی اور سادگی سے  پیش کر دیا گیا  ہے۔اس مختصر اور سادہ سی محسوس ہونے والی آیت میں اللہ سبحان وتعالیٰ نے یہ اہم بات واضح کر دی ہے کہ علم اور عقل  دونوں اللہ سبحان و تعالیٰ ہی کے عطا کردہ ہیں ۔ دن اور رات وہ  علم  ( دلائل /  نشانیاں  )ہیں  جن کو  حیوانات بھی پہنچاتے ہیں اور  معمولی سی عقل رکھنے والا بچہ بھی جانتا ہے کہ روشنی موجود ہے تو د ن  ہے اور اندھیرا چھا گیا  تو رات ہو گئی ہے ۔کیا روئے زمین پر کوئی  ایسا انسان موجود ہے جو اس فرق کو نہ سمجھ سکے ؟   یقینا نہیں !حتیٰ کے وہ لوگ جو ذہنی طور پر معزور ہیں، یا وہ لوگ جو اندھے ، گونگے ،بہرے ہیں وہ  بھی ان نشانیوں کو  پہچانتے  ہیں  اور ان کے بارے میں سوال کرنے اور غور و فکر  کرنے کے قابل ہیں ۔

یعنی زمین پر موجود  ہر انسان کے پاس  پیدائشی  طور پر اتنی  عقل لازمی موجود  ہے  کہ وہ  وقت کی تبدیلی کو محسوس کر سکے  اور سوچ سکے کہ یہ دن  اور رات  خودبخود  کیسے  تبدیل  ہو رہے ہیں ؟ کون ہے جو اس قدر  منظم نظام  کو اس قدر روانی کے ساتھ چلا رہا ہے جس میں کوئی بھول چوک  واقع  نہیں ہورہی ۔ اللہ سبحان و تعالیٰ کا یہ عطا کروہ علم ( نشانیاں / دلائل )  اپنی آسان ترین اور کھلی شکل میں پہلے ہی  موجود ہے ،جو ہمارے  ارد گرد ہر طرف موجود ہے ۔ سورج ، چاند ، ستارے ، آسمان ، زمین ، اندھیرا  اور  روشنی وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر ہم رات اوردن کے حوالےسے کر سکتے ہیں ۔ اس علم کو اپنی عقل کے استعمال میں لانے لے لیے ہمیں  اپنی  آنکھیں کھولنے   سے ذیادہ کسی    چیز کی ضرورت نہیں ۔

عمر کے ساتھ وسّعت بھی اُسی کا کرم ہے:

 جیسے جیسے انسان کی عمر  بڑھتی جاتی ہے اللہ سبحان و تعالیٰ کی عطا کردہ علم و عقل کا دائرہ   وسیع ہوتا جاتا ہے ۔ انسان مزید گہرائی کے ساتھ چھوٹی ، بڑی  ،  چھپی اور کھلی ہر طرح کی نشانیوں  کو دیکھنے  کے قابل ہوتا  جاتا ہے ۔  اور یہ  بھی اللہ  کی رضا  اور  اس کے حکم  کے مطابق عمر کے ساتھ ہی ممکن ہے کہ وہ جس کو چاہے جیسا چاہے علم  سکھا  دے ۔

حق کے طلبگار ہی  فائدہ اٹھاتے ہیں:

اس آیت کے آخر میں اللہ سبحان و تعالیٰ نے اسی بات کی طرف ہماری توجہ دلائی ہے جس کا ذکر ہم نے گذشتہ آرٹیکل  میں بھی کیا تھا۔

سارا علم اور عقل ان لوگوں کو ہی فا ئدہ دیتا ہے "جو سنتے ہیں ۔” یعنی  سنتے تو وہی لوگ ہیں جو جاننا چاہتے ہیں۔  جن کے دل میں حق کی طلب  ہوتی ہے۔ وہی لوگ ان واضح  نشانیوں  اور دلائل   پر عقل  کے ساتھ غوروفکر کرتے ہیں۔  گمان کی پیروی اور قیاس کے گھوڑے دوڑانہ ان لوگوں کا راستہ ہی نہیں ہوتا۔

ہمارے علم اور عقل کی  وسعت محدود ہے:

 ایک اہم بات جو  ہے تو تسلیم شدہ ،لیکن پھر بھی    اس کی  یاد دہانی اور  وضا حت یہاں ضروری ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم انسان محدود ہیں  اور   اپنی  مرضی   سے اپنے علم اور  عقل  کو کم یا زیادہ نہیں کر سکتے، او ر نہ ہی وقت کی قید سے نکل سکتے ہیں۔ ہم کسی بچے کو ایک چالیس سالہ میچور انسان جیسی عقل وفہم  یا علم فراہم  نہیں کر سکتے ۔یا ہم خود کو وہ سب مہیا  نہیں کر سکتے ہیں  جو اللہ سبحان و تعالیٰ  نے کسی  دوسرے شخص کو علمی یا عقلی لحاظ سے دیا ہے ؟ کیا ہم کسی ذہنی معذ ور شخص کی علم اور عقل میں خود سے اضافہ کر کے  اُسے اس محدود  کی قید میں سے نکال سکتے  ہیں  جس میں اللہ نے اُسے رکھا ہے؟

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ جب چاہتا ہے جس سے چاہتا ہے  یہ دونوں چیزیں واپس بھی لے لیتا ہے اور ہم یا وہ شخص خود اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔اچھے بھلے عاقل  لوگ کسی بھی حادثے کی وجہ سے ذہنی  مریض  بنتے ہم روزانہ اپنے ارد گرد دیکھتے  ہیں۔ جن کو ہم لاکھ سمجھا لیں   یا اپنی سوجھ بوجھ ان میں منتقل کرنے کی کوشش کریں   ہم نہیں کر پاتے۔

بڑھاپے کو  پہنچنے والے  بہت سے  لوگ جو اپنی جوانی میں بہت عقل والے اور شاطر بھی مانے جاتے  تھے آہستہ آہستہ اس کو کھوتے جاتے ہیں۔نہ  ہی وہ خو د، نہ اُن کے ارد گرد  موجود لوگ اس  تبد یلی کو  روکنے  کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بات کا ثبوت ہمیں قرآن کی اس آیت سے ملتا ہے۔

اللہ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے ، وہی پھر تمہیں  فوت کرے گا ،
تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے  جاتے ہیں کہ بہت کچھ  جانتے بوجتھے  بھی کچھ نہ جانیں ۔
بیشک اللہ دانا  اور توانا ہے-
(النحل-  70 )

چھلانگ لگانے کی صلاحیت:

سارا  علم ( نشانیاں ، دلائل ،سائنس) ہر چیز پہلے سے موجود ہے ۔ سب کچھ اللہ سبحان و  تعالیٰ ہی کا  پیدا کردہ ہے ۔ ہم ان پر کوئی اختیار نہیں رکھتے  ۔  عقل ہماری وہ صلاحیت ہے جو اسّی نے ہمیں دی ہے  اور  اس  پر  بھی ہم  کوئی اختیار نہیں رکھتے   ۔ اب اُس کی مرضی ہے وہ جس  کے لیے چاہے ، جس علم کے  چاہے دروازے کھول  دے ۔ اسی کا حکم  ہے کہ کون کہاں پیدا ہو گا اور کیا سیکھے گا۔   ہم ہر چیز  نہیں جان سکتے اور اس کی مقرر   کردہ حد سے  باہر بھی نہیں نکل سکتے ۔ جیسے  کہ اللہ سبحان و تعالیٰ  نے اس آیت میں بیان کیا ہے ۔

اے  گروہ جنات و انسان ! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے
تو  نکل بھاگو!  بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے -
(ارحمٰن  -  33 )

 انسان کا چاند پر جانا ایسا ہی ہے   جیسے ان ٹانگوں کے ساتھ اللہ نے ہمیں چھلانگ لگانے کی صلاحیت دی ہے ، جس سے کوئی شخص کوشش کر کے اپنی جگہ سے اچھل کر اوپر کی طرف تو جا سکتا ہے لیکن  چند ہی سیکنڈز بعد پھر سے زمین پر موجود ہوتا ہے۔

آیت ۳

انہوں  نے کہا اللہ نے بیٹا  بنا لیا ہے  ۔ وہ ( اولاد سے ) پاک ہے ۔ وہ بے پرواہ ہے ۔اسی کے لیے ہے جو  کچھ آسمانوں  میں اور جو کچھ زمین میں ہے  ۔ تمہارے  پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ۔  کیا تم اللہ کی بابت وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ؟
(68 – یونس  )

ہوائی مفروضے:

یہ تو ہم جان گئے ہیں کہ   ہمارے رب کے موجود ہونے کے  سارے دلائل اور بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں ۔ جو  اللہ رب العالمین کے واحد اور اکیلے ہونے کی  گواہی دیتی ہیں ۔  بلا شبہ اُس کا بنایا ہوا سارا نظام بہت  ہی  یکتا اور منظم ہے ۔ اب وہ  لوگ جو  گمان کو   سچ بنا کر  پیش کرتے ہیں، اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ، کیا   ان کے ہوائی مفروضوں کی بھی کوئی  دلیل موجود ہے ؟ کیا آسمان اور زمین میں ایسی کھلی  اور واضح  چیزیں  موجود ہیں جن سے ایسا محسوس ہو کہ یہ سارا  نظام کہیں تضاد کا شکار ہے؟ ایک جگہ پر ایک ذات کی مرضی چل رہی ہے اوردوسری جگہ پر کسی  دوسرے کی حکومت؟ ایسے کھلے  اور  عام دلائل  دکھائی دیتے جو کسی گوار سےگوار شخص کو یہ سمجھا سکیں  کہ اس کے دو ،یا دو سے زیادہ رب ہیں ؟ ایسا کوئی ایک بھی کھلا یا عام ثبوت موجود ہے ؟  بالکل نہیں!   اسی بات کو اللہ سبحان و تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے۔     

"اس بات کی کوئی دلیل نہیں”

یعنی وہ لوگ اللہ کے بارے میں وہ  بات کرتے ہیں جس کو وہ خود نہیں جانتے، ایسا کوئی علم  یا کھلی  نشانیاں  موجود ہی نہیں   جو عقل کو شرک کی منطق  پیش کر رہی ہو ۔

نتیجہ:

اس آرٹیکل کے   آغاز میں ہم نے سورہ یونس کی  پانچ آیات کی   پیش کی تھی جن میں سے پہلی تین  آیات میں موجود پاسورڈ کے الفاظ کو  ہم نے اس   تحریر میں کھول کر بیان کیا ہے۔ اور یہ بات  ہمارے لیے کافی حد تک  واضح ہو گئی ہے کہ:

"علم اور عقل حاصل کرنے میں  انسان کا کوئی اختیار نہیں”

یہ دونوں  چیزیں ہی اللہ سبحان وتعالیٰ کی عطا کردہ ہیں  اور  اسی کے حکم کے مطابق ہی  تقسیم کی گئی  ہیں۔ 

اختتام:

ان تین آیات کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ:

(۱) ہر شخص کے پاس بنیادی عقل بھی موجود ہے اور بڑی نشانیوں کی صورت میں  واضح علم بھی،  پھر وہ اس علم و عقل کی  پیروی  کیوں نہیں کر رہے، خرابی آخر کہاں پیدا ہو رہی ہے؟

(۲)اس دنیا  اور اس کے سارے  لوازمات  جن کو  اللہ  نے  تخلیق کر دیا ہے اور  وہ ہمارے لیے بہت بڑی نشانیاں ہیں ،کیا یہ انسان کی  مکمل رہنمائی کے لئے کافی ہیں؟

انہیں سوالات کے ساتھ ہم   اگلے آرٹیکل  میں  سورہ یونس  کی باقی دونوں آیات کا  تفصیلی جائزہ   لیں گے اور علم  و عقل کے حصول  میں انسان کا کوئی اختیار  ہے یا نہیں ۔ اس کو ختمی نتائج  تک پہنچائیں گے ۔ان شاءاللہ!

Who is a Believer

ایمان والا کون ہے

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-9

مسلمان ہونا ،نسل اور ذات  پات کے نظام کی طرح  دنیا  میں شناخت کی  علامت تو ہوسکتی ہے   لیکن اللہ کے ہاں ایمان والا کون ہے؟ اس بات کا تعین […]

Faith is justice In Fact

عدل ہی تو ایمان ہے

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-8

اپنے ارد گرد ہمیں بہت سے ذہین لوگ ملیں گے۔ جن سے دنیا کے کسی بھی موضوع پر بات کی جائے  تو  لگے گا جیسے وہ اس موضوع اور شعبے کو […]

Non-Believers are Cruel and Arrogant

حق کا انکار کرنے والے ظالم اور متکبر

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-7

انسان کا غلطی کر دینا ایک لازمی امر ہے۔ کیونکہ وہ انسان ہے، فرشتہ نہیں۔  انسان سے خطا ء ہو جانے کے بعدہی تو اصل معاملہ شروع ہوتا ہے۔ خطاء کار  […]