زبان: اردو / English
کہہ دیجئے : گواہی کے طور پر کون سی چیز سب سے بڑھ کر ہے؟ کہہ دیجئے: اللہ ہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے' اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے سے میں تمہیں اور جس جسکو یہ پہنچے سب کو ڈراوؤں کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کیساتھ دوسرے معبود بھی ہیں؟ کہہ د یجئے : میں یہ گواہی نہیں دیتا ۔ کہہ دیجئے کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک ٹھہراتے ہو۔
( الانعام۔ ۱۹)

حق کا انکار کرنے والے ظالم اور متکبر

Non-Believers are Cruel and Arrogant

انسان کا غلطی کر دینا ایک لازمی امر ہے۔ کیونکہ وہ انسان ہے، فرشتہ نہیں۔  انسان سے خطا ء ہو جانے کے بعدہی تو اصل معاملہ شروع ہوتا ہے۔ خطاء کار  اگر ندامت، عاجزی، اور بخشش کی طرف جانے والا ہو تو اس کی یہ غلطیاں  اور   شرمندگیاں ہی اسے   جنت کے بالا خانوں تک پہنچا دیتی ہیں۔ اور اگر وہ  خطاءکار اپنی غلطی پر اڑ جانے والا، اس کو جاری رکھنے والا اور معافی  مانگنے کے بجائے   ،تکبر کرنے والا رویہ اختیار کرے تو یہ لوگ ہی خسارہ پانے والے ہوتے ہیں ۔ غلطی کرنا ظلم نہیں لیکن غلطی پر اڑ جانا ہ یقیناً ظلم ہے کیونکہ نافرمانی تو اسی پیدا کرنے والے  رب کی ہو رہی  ہوتی ہے۔یہ تکبر  وہ ظالم اپنے رب کے سامنے ہی کرتے ہیں ۔اللہ اور حق کا انکار کرنے والے ہی ظا لم اور متکبر ہیں۔

گذشتہ خلاصہ:

گذشتہ  آرٹیکل میں یہ بات مکمل طور پر  ہمارے لیے واضح ہو گئی تھی کہ:

"علم وعقل خود سے حاصل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ۔”

دونوں چیزیں اللہ سبحان وتعالیٰ ہی کی  عطا کردہ ہیں اور وہ جیسے چاہے ان کو تقسیم کرتا ہے ۔ کوئی بھی شخص  اللہ کی رضا اور اسکی  تقسیم میں ردوبدل کا اختیار نہیں رکھتا ۔ اس موضوع پر ہم نے سورۃ  یونس کی منتخب کردہ  پانچ آیات  66 ،67 ، 68, 69 اور 74  کا تفصیلی مطالعہ  کیا  تھا اور علم و عقل والے موضوع  کی وضاحت کے ساتھ مندرجہ ذیل تین سوالات ہمارے سامنے آئے تھے :

1 ) وہ  کون  لوگ ہیں جو علم و عقل دونوں چیزیں موجود ہونے کے باوجود حق کو جھٹلا دیتے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھتے  ہیں ؟

2 ) وہ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

3 ) کیا یہا ں وہ اپنا کوئی اختیار استعمال کر رہے ہیں  ۔

ان میں سے ہر ایک  سوال مکمل تفصیل طلب کرتا ہے اور ایک سوال کی تفصیل  جاننے  کے بعد ہی ہم  دوسرے سوال کو کھولنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ آئیے  اپنے پہلے سوال کا جواب  قرآن میں تلاش کرتے ہیں۔

درست سمت کی نشاندہی:

پہلا سوال یہ ہے کہ :                                      

وہ کون لوگ ہیں جو علم وعقل دونوں چیزیں موجود  ہونے کے باوجود  حق کو جھٹلا دیتے ہیں  اور اللہ پر جھوٹ  باندھتے  ہیں؟

اس سوال کا جواب ہمیں سورۃ یونس کی اگلی ہی دو آیات 75  اور 76  سے مل رہا ہے ۔ انسانی ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب اللہ سبحان و تعالیٰ  نے جس طرح ایک کے بعد ایک ،ترتیب میں آنے والی آیات کے ساتھ دیا ہے ، بلا شبہ  یہ بہت  حیرت انگیز اور ایمان میں اضافہ کر  نےوالی بات ہے ۔ اور اس بات کی نشاند ہی بھی ہے کہ ہم  صحیح سمت میں سوالات  کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

(1 ) پھر ہم نے موسیٰ  اور ہارون کو اپنی  آیتوں کے ساتھ فرعون اور اس ( کی قوم ) کے سرداروں  کی طرف بھیجا تو  انہوں نے تکبر  کیا  اور وہ مجرم  لوگ تھے ۔ 
( یونس  - 75 )
(2 ) پھر ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا  تو انہوں نے کہا  : بیشک یہ تو کھُلا جادو ہے ۔            
(  یونس - 76 )

 آیات میں موجود  پاسورڈ کے حروف کو میں نے رنگ سے نمایاں کر دیا  ہے ۔

آیت ۱:

(1 ) پھر ہم نے موسیٰ  اور ہارون کو اپنی  آیتوں کے ساتھ فرعون اور اس ( کی قوم ) کے سرداروں  کی طرف بھیجا تو  انہوں نے تکبر  کیا  اور وہ مجرم  لوگ تھے ۔  
(یونس  - 75 )

پہلی  آیت میں رنگ سے نمایاں کیے گئے الفاظ  کو  ایک  ساتھ ملا کر لکھیں تو  یہ مرکب اس طرح سے معلوم  ہوتا ہے : 

فرعون ( بادشاہ ) ،سردار ، تکبر  ،  مجرم

موسیٰ ؑ اور فرعون  کا قصہ قرآن میں سب سے ذیادہ دہرایا  جانے والا قصہ ہے۔ اور اس سب سے ذیادہ دہرائے جانے والے قصے میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اس سے ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے اوّلین وہ لوگ  تھے جو معاشرے میں متاثر کن حیثیت  رکھتے  تھے ۔ بادشاہ اور سردار کسی معاشرے کے وہ  لوگ ہوتے ہیں جو مال  و دولت ، شہرت  اور ظاہری طور  بے شمار عزت کے مالک ہوتے ہیں ۔ سرداری  رکھتے ہیں ، جس کا مطلب  ہے کہ باقی  لوگ ان کے ماتحت ہوتے ہیں  اور ان کا حکم چل رہا  ہوتا ہے ۔

حق کاانکار کرنے والے ظالم اور متکبر :

بادشاہ یا سردار ہونا حق کو جھٹلانے کی وجہ نہیں۔نہ ہی یہ کوئی بُرائی ہے۔ مسئلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان متاثر کن شخصیات میں وہ دونوں  چیزیں بھی ہوں جو اللہ سبحان وتعالیٰ  نے اس آیت  میں بیان کی ہیں ۔ یعنی وہ

تکبر کرنے والے  ہوں۔

اور مجرم بھی ہوں ۔

مجرم تو کوئی  اس وقت ہوتا ہے  جب وہ کوئی جرم  کر رہا ہو ۔ اور جرم تو وہی کرتا ہے  جو ظالم ہو ۔ اور ظالم وہ ہوتے ہیں جو  ہر اچھے بُر ے ،کسی بھی طریقے سے  ، کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر  اپنی نفسانی خو اہشات  پوری کرتے ہیں ۔   وہ خود کو ہی سب کچھ سمجھتے  ہیں ۔ اپنی ذات کو  انصاف  کرنے  پر تر جیح دیتے ہیں۔ ظلم و ذیادتی   میں ایک کے بعد  ایک، حد سے بڑھتے   چلے جاتے ہیں ۔

غلطی پر اڑنا ،ایک  بڑی غلطی:

انسان سے کوئی غلطی ہو جانا  اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ تو تب ہے  جب جرم  سرزد ہونے کے باوجود ندامت نہ ہو۔  اپنی ذیادتیوں  پر   فخر   ہو  اور اپنے کیئے پر انسان اتراتا پھرے ۔ندامت ہو تو نصیحت نفع دیتی ہے ۔ ایک نادم شخص  کو  اگر کوئی بُرائی  سے روکے  تووہ   سوچنے اور رکنے پر مجبور ہو جاتا ہے  ۔ لیکن اس کے برعکس اگر تکبر  کرنے والے شخص کو نصیحت کی جائے  تو  وہ نصیحت کرنے  والے کے ساتھ بھی وہی ظلم و  ذیادتی کرتا ہے ۔ اسی بات کو اللہ سبحان و تعالیٰ نےسورہ یونس کی اس آیت نمبر ۷۵  میں بیان کیا ہے ۔

انبیاء کرام آیات لے کر  بادشاہ اور سرداروں کے پاس گئے تھے۔ اور اللہ کی آیات  کوئی عام الفاظ نہیں ہوتے جو کوئی انسان  کہے۔ بلکہ  آیات تو  رب العالمین   کا کلام  ہوتا ہے جو بلاشبہ منطقی دلائل پر مشتمل  ہوتا ہے ۔ وہ دلائل  جو حق کے ساتھ سیدھا دل میں اترتے ہیں۔ سننے  والا  جان  جاتا  ہے کہ یہی بات صحیح  تر ہے ۔ لیکن جرم کرنے والے  ،اور تکبر کرنے والے وہ لوگ، جن کو اپنی پسند کی ہر چیز حاصل  ہوتی ہے، باوجود اس کہ ،کہ وہ جان جاتے ہیں کہ یہ ہی حق اور انصاف کی بات ہے وہ وہ تکبر کرتے ہیں  اور حق کا انکار کر دیتے  ہیں ۔ ندامت کے بجائے  ان کا یہ رویہ ہی انہیں مجرم ہونے کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔انہیں دونوں باتوں کو اللہ سبحان و تعالیٰ نے اس آیت ۱ میں بیان کیا ہے۔

آیت ۲:

(2 ) پھر ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا  تو انہوں نے کہا  : بیشک یہ تو کھُلا جادو ہے ۔                (  یونس - 76 )

اللہ کی  رحمت اور کرم ہے جو اپنے بندوں  کے لیے جوش میں آتی ہے ۔ بات  آیات کے ساتھ نصیحت  تک محدود نہیں رکھی گئی  ۔ اللہ سبحان و تعالیٰ  نصیحت  کے بعد اپنی نشانیاں بھی دکھاتے  ہیں ۔ ہر دور کے لوگوں کے لیے ان کی ذہنی سطح  کے مطابق نشانیاں اور  معجزات  رہیں ہیں ۔ اس آیت میں "حق” وہ روشن معجزات تھے  جو موسیٰ  کو عطا کیے گئے تھے ۔ قرآن  کی  چند دوسری  آیات جن میں یہی موسیٰ ؑاور فرعون کا قصہ بیان کیا گیا ہے،میں  ہمیں   موسیٰؑ کےان روشن معجزات کا ذکر ملتا  ہے :

اللہ نے فرمایا  :  اے موسیٰ  !  اسے پھینک دے ۔ پھر جب اس نے اسے پھینکا  ، تب وہ دوڑتا ہوا سانپ  بن  گیا ۔ فرمایا  :  اسے پکڑلے اور مت ڈر ، ہم اسے پہلی حال  میں لے آ ئیں گے ۔اور اپنا  ہاتھ بغل سے لگا  ، وہ  بغیر  کسی  مرض  کے چمکتا                     ہوا سفید نکلے گا، یہ دوسری نشانی ہے .                                  
(سورۃ طٰہٰ  -  22 -19 )

ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں  معجزات:

 موسیٰ  کی لاٹھی  کا  اژدھا بن جانا

 اور ان کے ہاتھ کا روشن اور سفید ہو کر چمکنا ہے ۔

حق اور جادو میں فرق:

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ وہ زمانہ جب جادو اپنے عروج پر تھا  موسیٰؑ ایسے  معجزات لائے تھے جو جادو نہیں تھے ۔ تو یہ ایک  الجھا  ہوا نقطہ معلوم ہوتا ہےکہ جادو اور حق  میں فرق کیسے معلوم ہو ؟

  قرآن سے ہی ہم یہ بات  جانتے ہیں کہ موسیٰؑ کی لاٹھی ایک بڑا سانپ یعنی اژدھا بن گیا تھا اور جادو گروں کی رسیاں  بھی سانپ بن گئی تھی ۔

کہا  : اے موسی  یا تو ڈال اور یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں ۔ کہا  بلکہ تم ڈالو   پس اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے اس کے خیال میں دوڑ رہی ہیں ۔
( سورۃ طٰہ  - 65 ،66 )

تو کیسے معلوم ہوتا ہے  کہ کون سا جادو ہے اور  کون سا حق ؟

اس بات کا جواب قرآن حکیم کی اس آیت میں اللہ سبحان وتعالیٰ  نے بہت خوبصورت انداز میں دیا ہے ۔:

یہ اس لیے کہ بیشک اللہ ہی  رات کو  دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ اور بے شک اللہ سمیع  و بصیر ہے  ۔ یہ اس لیے کہ بیشک اللہ ہی حق ہے اور بلاشبہ جسے  وہ اللہ  کے سو ا   پکارتے  ہیں وہی  باطل  ہیں ۔ اور بلاشبہ اللہ ہی بلند  مرتبہ  ، بہت بڑ ا ہے 
( الحج  - 62، 61 )

ان  آیات میں اللہ سبحان و تعا لیٰ نے خود کو حق کہا ہے اور اس کے ساتھ  حق کی دو نشانیوں یعنی  دن اور رات  کے بدلنے کو بیان کیا  ہے ۔ جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حق اُسی طرح واضح اور  دل میں اترنے والا ہوتا ہے  جیسے  دن اور رات کا بدلنا ۔ جس  میں کوئی شک  ہی  نہیں ہوتا ۔ کیا دنیا میں موجود کوئی بھی شخص اللہ سبحان وتعالیٰ   کی ان کھلی نشانیوں  کو یہ کہہ  سکتا ہے کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ  جادو  ہے ؟ دن ا ور رات کے  بدلنے کو   حق کے علاوہ کچھ بھی  کہا  جا سکتا ہے؟    

ہرگز نہیں !                  

جب لوگ دن اور رات  کے بدلنے کے طریقے اور سائنسی  علوم سے بے خبر   بھی تھے ۔ اس وقت  بھی یہ حق ہی تھا  ۔ سمجھ  میں  نہیں آتا  تھا پھر بھی لوگ  جانتے  تھے کہ دن اور رات  واقعی میں  بدلتے ہیں  ۔اور یہ   حق ہے کوئی جادو یا جھوٹ نہیں ۔ یہی فرق ہوتا ہے جادو اور حق میں  ۔ جادو ، جھوٹ ہوتا ہے ۔ اس میں شک ہوتا ہے  جبکہ حق کے بارے میں یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ یہ جھوٹ ہے ۔ کسی صورت نہیں !

 حق  سب پر اُسی وقت  واضح ہو جاتا ہے ۔ دل میں اترنے  والی  یقینی  صورت  حال ،جس کا انکار ممکن نہیں ہوتا ۔ کیونکہ اللہ سبحان وتعالیٰ حق ہے اور اسکی طرف سے ہر چیز حق ہی ہوتی ہے ۔ یہی فرق  تھا  موسیٰؑ  کے اژ دھے  اور جادوگروں کے سانپوں میں ۔ موسیٰؑ کا اژ دھا   اور ان کا چمکتا ہوا ہاتھ دن اور رات کی طرح  حق  تھا ۔  جبکہ   جادوگروں  کے سانپ ، سانپ جیسے دکھائی دینے والے جھوٹ تھے ۔ ۔ اس کے باوجود فرعون اور سرداروں نے اس کو جھٹلادیا اور کہا یہ تو کھلا  جادو ہے ۔ جب کہ وہ جان گئے تھے  یہ جادو نہیں ہے ۔

قرآن کی لاجواب ترتیب:

سورۃ یونس کی ترتیب  سے آتی اگلی آیت  77   بھی اسی صورت حال کی تصدیق کر رہی  ہیں ۔ جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ صورت حال سب کے لیے واضح ہو گئی  تھی  پھر بھی  انہوں نے انکار کیا ۔

موسیٰ نے کہا : کیا تم حق کے بارے میں ( یہ ) کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آگیا ؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ  جادو گر تو فلاح نہیں پاتے- 
 ( یونس  - 77 )

 موسیٰ کے سوالیہ الفاظ”  کیا یہ جادو ہے ؟” اسی صورت حا ل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں  جیسے کوئی  سامنے موجود واضح اور یقینی  چیز کو دیکھ کر مُکر جائے  اور کہے کہ وہ چیز موجود  ہی نہیں ۔ اور موسیٰ کے اگلے الفاظ ” حا لانکہ جادو گر تو فلاح نہیں پاتے ” سے یہ بات بھی پتہ چل رہی ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں بھی جادو گر کتنا بھی بڑا   جادو لائیں ،   وہ کوئی اچھا  کام کرنے والے لوگ نہیں تھے ۔ موسیٰؑ سمیت وہ  سب لوگ یہ  بات جانتے تھے کہ جادو ایک بُرائی ہے اور اس کا تعلق  باطل سے ہے ۔ اور یہ  کامیابی کی طرف لے جانے والی چیز نہیں۔

نتیجہ:

اس آرٹیکل کے اختتام تک ، سورہ  یونس کی آیات ۷۵  اور ۷۶ پر غورو فکر کرنے سے ہمیں  یہ معلوم  ہوا ہے کہ سب سے پہلے لوگ جو علم و عقل موجود ہونے  اور حق کو پہچان جانے کے باوجود حق کو جھٹلا دیتے ہیں ۔

 وہ بادشاہ ، سردار  اور معاشرے میں متاثر کن  حیثیت  رکھنے والے وہ لوگ ہیں،جو ظالم ہوتے ہیں  ،اور تکبر کرتے ہیں ۔

 اسی نتیجے اور پورے آرٹیکل کی تفصیل کو  اللہ سبحان وتعالیٰ نے قرآن   میں ایک دوسری جگہ  پر  ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔

ترجمہ:

پھر جب ان کے پاس ہمارے واضح اور روشن  معجزات  پہنچے  تو انہوں نے  کہا :یہ تو صریح جادو ہے ۔ انہوں  نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے  انکار کر دیا ، جبکہ انکے دلوں نے یقین کر لیا تھا ۔ پھر دیکھیے  فسادیوں  کا انجام کیسا ہوا۔
(النمل -  14 ،13 )      

"جبکہ انکے دلوں نے یقین کر لیا تھا”   کے الفاظ سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ  فرعون اور اس کی قوم کے سردار حق کو پہچان گئے تھے ۔ ان کے دلوں نے موسیٰؑ کا یقین کر لیا تھا ۔ لیکن اپنے ظلم اور تکبر کی وجہ سے زبان سے جھوٹ بولا اور انکار کر دیا۔ لیکن وہ اپنے دل کا حال اُس سے کیسے چھپا سکتے تھے جس نے دل بنایا تھا۔

اختتام:

اوپر بیان کی گئی سورۃ النمل  کی آیت نمبر 14  میں اللہ سبحان وتعالیٰ   نے "مفسدین”  کا لفظ  استعمال کیا ہے ۔

عربی میں اس کا مطلب  گوگل کریں تو  جو نتائج سامنے آتے ہیں ان کی  تصویر میں نے نیچے شامل کی ہے۔

حق کا انکار کرنے والے ظالم اور متکبر

فساد کرنے والےاور فساد  پھیلانے والے!

اوپر والی پوری بات کے ساتھ ہم اس مفسدین کے لفظ پر غور کریں  تو بہت  سی باتیں مزید سمجھ  میں آتی ہیں ۔ اس ایک لفظ میں اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ ان  ظلم و تکبر کرنے والے بادشاہ اور سرداروں کے ساتھ فساد ان کی ذات تک محدود نہیں  رہتا  بلکہ پھیلتا ہے ۔ تو یقینا   اور بھی لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں ۔

وہ کون لوگ ہیں اور  کیوں شامل ہوتے  ہیں ؟

ان کا رویہ اور   سائیکالوجی  کیا ہوتی ہے ؟

اسی بات  کے ساتھ ہم اگلے آرٹیکل کا آغاز کریں گے ،اور  اس کے ساتھ مکمل اور   حتمی طور پر اس سوال کے    جواب تک پہنچے گے کہ :

وہ کون لوگ ہیں جو علم و عقل موجود ہونے کے باوجود حق کو جھٹلادیتے  ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ؟

 اس سوال کا آدھا  جواب ہم جان چکے ہیں اور باقی آدھے کو جاننے کے لیے، اگلے آرٹیکل میں اللہ کی رضا اور اس  کی  توفیق سے  پوری کوشش کریں گے۔ ان شاءاللہ!

Who is a Believer

ایمان والا کون ہے

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-9

مسلمان ہونا ،نسل اور ذات  پات کے نظام کی طرح  دنیا  میں شناخت کی  علامت تو ہوسکتی ہے   لیکن اللہ کے ہاں ایمان والا کون ہے؟ اس بات کا تعین […]

Faith is justice In Fact

عدل ہی تو ایمان ہے

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-8

اپنے ارد گرد ہمیں بہت سے ذہین لوگ ملیں گے۔ جن سے دنیا کے کسی بھی موضوع پر بات کی جائے  تو  لگے گا جیسے وہ اس موضوع اور شعبے کو […]

light that continues

ایک نور مسلسل

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-6

علم محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں،  بلکہ یہ وہ بصیرت ہے جو ایک نور مسلسل کی  طرح انسان پر نچھاور ہوتی  ہے۔ جو اس روشنی کو استعمال کر کے دیکھنا […]