زبان: اردو / English
کہہ دیجئے : گواہی کے طور پر کون سی چیز سب سے بڑھ کر ہے؟ کہہ دیجئے: اللہ ہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے' اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے سے میں تمہیں اور جس جسکو یہ پہنچے سب کو ڈراوؤں کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کیساتھ دوسرے معبود بھی ہیں؟ کہہ د یجئے : میں یہ گواہی نہیں دیتا ۔ کہہ دیجئے کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک ٹھہراتے ہو۔
( الانعام۔ ۱۹)

عدل ہی تو ایمان ہے

faith is justice in fact

اپنے ارد گرد ہمیں بہت سے ذہین لوگ ملیں گے۔ جن سے دنیا کے کسی بھی موضوع پر بات کی جائے  تو  لگے گا جیسے وہ اس موضوع اور شعبے کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔  ان کے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کی دلیل بھی ہوگی اور   معلومات  اور اعتماد کا ذخیرہ بھی۔  لیکن ان میں سے ذیادہ تر لوگ دین اور دنیا کو الگ الگ کر کے اپنے لیے اس کے بیچ میں سے راستہ نکالے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہر بات کو دلیل کے ساتھ سمجھتے ہیں تو دلیلیں تو ساری انسان کو اپنے رب کے قریب کرنے کے لیے موجود ہیں۔ علم ہونے کو باوجودان کی زندگی  کا  بہت سارا حصہ  اللہ کی رضا  کے خلاف  نظر آئے گا۔  علم کے باوجود کھلی سرکشیغیر منصف ہونے کی نشانی ہے۔ اور دراصل عدل ہی تو ایمان ہے۔ اگر ایمان کے خلاف  معاملات نظر آرہے ہیں تو سمجھیں اس علم کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا۔  اور وہ شخص ایمان دار نہیں منافق ہے۔   

گذشتہ خلاصہ:

گذشتہ  آرٹیکل میں ہم نے اس بات  سے اپنی  تحقیق کا آغاز کیا تھا کہ :  

وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو علم و عقل دونوں چیزیں موجود ہونے کے باوجود حق کا انکار کردیتے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہم نے سورۃ  یونس  کی آیت نمبر  75  ، 76 ، اور 77  کا  تفصیل  سے مطالعہ کیا تھا  جس سے حق کا انکار کرنے والے اولین لوگوں کی نشاندہی  بھی ہوگئی تھی ۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان کی سائیکالوجی اور رویہ بھی  ہمارے لیے بہت واضح  ہوگیا تھا ۔ موسیٰؑ اور ہارونؑ کو عطا ء کردہ آیتوں اور روشن معجزات کے ساتھ "حق” وہاں موجود تمام بادشاہ اور سرداروں کے لیے ایک دل میں اترنے والی یقینی صورت حال کی طرح واضح ہوگیا تھا جس سے انکار ممکن نہیں تھا۔ لیکن  انہوں نے اپنے ظلم اور تکبر کی وجہ سے اس حق کو تسلیم نہیں کیا اور حق کا انکار کرتے ہوئے کہا: "یہ تو کُھلا جادو ہے” ۔ گذشتہ آرٹیکل  کی پوری بات کو ذہن میں دہرانے کے لیے میں وہ آیات دوبارہ درج کر رہی ہوں تاکہ اسی روانی کے ساتھ اگلی بات شروع کی جاسکے۔

پھر اس کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی آیتوں  کے ساتھ فرعون اور اس ( کی قوم)  کے سرداروں کی طرف بھیجا تو  انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ پھر انکے پاس ہماری طرف سے  حق آگیا  ، تو انہوں نے کہا : بیشک یہ تو کھلا جادو ہے ۔ موسیٰ نے کہا : کیا تم حق کے بارے میں یہ  کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آگیا؟  کیا یہ جادو ہے ؟ حلانکہ جادو گر فلاح نہیں پاتے۔
سورۃ یونس  -  (75 ۔76۔77 )

جاہلوں کا پینترا:

یہ رویہ ہم اپنے اردگرد اکثر  و بیشتر دیکھتے ہیں ۔ جب کوئی دو فریق   آپس میں دو مخالف باتوں پر بحث کر رہے ہوں تو کچھ  دیر بعد ان میں سے کوئی ایک فریق جب غلط ثابت ہو  رہا ہوتا ہے تو وہ  سامنے والے کی بات کو تسلیم کرنے کی بجائے بات کا رُخ دوسری طرف موڑ دیتا ہے ۔ پھر وہ دلیل کی بجائے عذر پیش کرتا ہے ۔ یہی کام اس وقت کے فرعون اور سرداروں نے بھی کیا تھا ۔ جب انہوں نے جان لیا کہ موسیٰؑ اور ہارونؑ حق پر ہیں اور موسیٰ ؑکے سوال ” کیا یہ جادو ہے ؟”  کے جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی تو انہوں نے بھی عذر پیش کیا جس کا ذکر اللہ سبحان و تعالیٰ نے اگلی آیت میں کیا ہے ۔

انہوں نے کہا : کیا تو ہمارے پاس آیا ہے کہ ہمیں اس ( طریقے ) سے ہٹا دے جس پر ہم نے اپنے باپ  دادا کو پایا ، او ر    تم دونوں کے لیے  زمین میں اقتدار ہو ؟ جبکہ ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے نہیں ۔                   
(یونس  -  78 )

اس آیت میں اللہ سبحان وتعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ بتایا ہے ۔

1 ) ظلم پر نقاب ڈالا:

پہلی بات یہ کہ جب وہ  سچ  کو پہچان  جانے کے باوجود اسکو تسلیم نہیں کرتے  اور مناظرے میں ہار تے معلوم ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس  کوئی  دلیل نہیں ہوتی تو  اپنے ظلم و تکبر  پر پردہ ڈالتے ہوئے عذر پیش کرتے ہیں ۔ اور نہ ماننے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہی  کرتے پایا  تھا ۔

2 دل کے اندھے لوگ:

دوسری بات  یہ  کہ اگر وہ نرم دل،  اور عاجزی اختیار  کرنے والے لوگ ہوتے تو  سچائی کی  تصدیق کرتے ۔ وہ حق کو قبول اس لیے نہیں کرتے کیونکہ وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اسی بات کی نشاندہی آیت کا آخری حصہ  کر رہا  ہے  ”  جبکہ ہم تم  دونوں پر ایمان لانے والے نہیں "  یعنی وہ اپنے دل کے طے شدہ فیصلے کا اعلان کر تے ہوئے بتا رہے تھے کہ ان کے سامنے کچھ بھی پیش کیا جائے اور وہ کتنا  ہی سچ  کیوں نہ ہو۔ ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں  ۔وہ  سچائی جاننے کے لیے سوال نہیں کرتے  بلکہ  جھٹلانے کے لیے کرتے ہیں۔

3 ) دنیا حاصل کرنے کا فیصلہ:

 تیسری اور  بہت اہم بات جس کی اس آیت میں  نشاندہی  ہو رہی ہے وہ انسان کی وہ فطرت ہے جس کی وجہ سے وہ غلطی کر جاتا ہے ۔ "نفس کا لالچ” اور "دنیا  کی محبت”   جو اللہ کی رضا پر غالب آجاتی ہے۔  جب انہوں  نے یہ جا ن لیا کہ موسیٰؑ  کی بات  ہی حق ہے اور اگر وہ حق کو تسلیم کر لیتے ہیں تو موسیٰؑ ان سے بہتر ثابت ہو جاتے  ہیں ۔تو جو مقام ، عزت  اور باد شاہی ان کو حاصل تھی وہ  موسیٰؑ کی طرف منتقل ہو جاتی  کیونکہ پھر حکم  تو اُسی کا چلنا   چاہیے جو سب سے ذیادہ بہترین بات کرنے والا ہو ۔ اور یہ بات ان کے تکبر کو گوارہ  نہیں تھی کہ کوئی اور ان سے بہتر ہو ۔تو یہ الزام انہوں نے موسیٰ پر لگایا کہ وہ اقتدار کی خواہش میں یہ سب کچھ  کر رہے ہیں  جبکہ وہ خود بھی جانتے تھے کہ موسیٰؑ  صرف حق اور سچ  ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔ ان سے کوئی صلہ یا اقتدار  نہیں مانگ رہے ۔ لیکن باپ دادا کا عذر پیش کر کے، موسیٰ پر اقتدار  کا الزام لگا کر انہوں نے موسیٰ کو  جھٹلایا اور اپنے پیدا کرنے والے رب  کا انکار کیا اور اپنے رب کی قربت پر دنیا کی محبت کو تر جیح دی۔ یقیناً یہ ظلم تھا اور  وہ یہ  ظلم خود اپنے ساتھ ہی کر رہے تھے۔

بلاشبہ وہ خود ہی ذمےدار تھے:

یہاں تک ہم نے بادشاہ اور  سرداروں  کی نشاندہی کے ساتھ ان کے رویے اور وجوہات  کا تفصیل  سے مطالعہ  کیا ہے ۔ ان رویوں اور وجوہات کا  مطالعہ اس لیے  ضروری  تھا     کیونکہ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انسا ن کے اختیار میں کیا ہے  اور اگر  انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو پھر اس کے اعمال کا وہ خود ذمے دار کیسے ہے ؟اور یہاں تک ہمارے لیے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ  معاشرے کے  ان آسودہ حال لوگوں نے حق کا انکار کرنے کا  فیصلہ کیا اور وہ خود ہی اس  فیصلے کے ذمےدار بھی ہیں۔

یہ فساد کیسے پھیلتا ہے؟

 ان متاثر کن حیثیت  رکھنے  والے لوگوں کو اللہ نے "مفسدین”  کہا تھا ۔ تو اس بات کی  طرف آتے ہیں  جس کے ساتھ ہم نے  گزشتہ آرٹیکل  کا اختتام کیا تھا ۔

 ان فساد کرنے والے اور فساد  پھیلانے والے لوگوں سے فساد پھیلتا کیسے ہے ؟ او ر کون لوگ ہیں جو حق کو جھٹلانے والوں میں شامل ہوتے ہیں اور  وہ  کیوں  شامل ہوتے ہیں ؟ 

کیا ان ذمہ داری بھی خود انہی پر ہوتی ہے ؟    

آیئے ان سب باتوں کو  جاننے کے لیے قرآن کی  طرف رجوع کر تے ہیں ۔

ظا لم کا ساتھ بھی  ظالم ہی دیتا ہے:

جب بات ہو رہی ہے  بادشاہ اور سردار وں کی جو بلاشبہ معاشرے میں اثرورسُوخ  رکھنے والے متاثر کن لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس دولت ، شہرت  ، عزت ، سرداری ، غلبہ  الغرض ہر وہ چیز موجود ہوتی ہے  ۔ جو کسی بھی دنیا کی  طلب رکھنے والے  نفس کو مطلوب ہو سکتی   ہے ۔ دنیا کی کامیابی کا پیمانہ تو یہی سب کچھ ہے  جو ان  لوگو ں  کے پاس ہوتا ہے  ۔ معاشرے  کے وہ لوگ   جو دنیا کی اس کامیابی کو ہی اصل کامیابی  سمجھتے  ہیں ۔  ان کو بھی   وہی کچھ چاہیے ہوتا ہے  جو ان کے پاس ہوتا ہے تو  ان کے لیے  یہ بادشاہ اور سردار  ہی قابل تقلید ہوتے ہیں ۔

   تو پھر یہ کمزور لوگ بھی وہ سب کچھ ہی کرتے ہیں جو ان کے بادشاہ اور سردار کر رہے ہوتے ہیں ۔ ان سرداروں کی خوبیاں  ، خامیاں ، رویے ، طور  طریقے حتیٰ  کہ ان کی ہر  روش  معاشرے کے باقی لوگوں  کے لیے لا ئق پیروی بن جاتی ہے ۔ پھر ظاہر  سی بات  ہے کہ ان کا ظلم  ، تکبر  اور حق کو جھٹلانا  ان  تک محدود  نہیں  رہتا ، بلکہ  پھیلتا ہے ۔ جو لوگ ان کو مثالی نمونہ بنا کر ان  کی   پیروی کرتے ہیں وہ انہی کی طرح کے عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہی کی طرح نظر آنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے پھر وہ  اس جھٹلانے والے  فیصلے  کی بھی پیروی کرتے ہیں ۔ اس بات کو اللہ سبحان وتعالیٰ  نے قرآن میں دوسری جگہ موسیٰ ؑاور فرعون کا قصہ بیان کرتے ہوئے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

تب اس ( فرعون )  نے اپنی قوم کی مت ما ر دی اور انہوں نے اُسکی اطاعت کی۔ بلاشبہ یہ سارے ہی فاسق تھے ۔
( الزحرف  -  54 )

سب ہی فاسق تھے:

اس آیت کے اختیام پر  اللہ سبحان وتعالیٰ  نے مفسدین کی بجائے  "فاسقین " کا لفظ  استعمال کیا ہے  جس کا مطلب ہوتا ہے  ” غیر   عادل  یا شریر”۔  یعنی ان بادشاہ   اور سرداروں  کی پیروی  بھی و  ہی لوگ کرتے ہیں جو  اندر سےاسی "ظلم " کرنے کی روش پر ہوتے ہیں ۔ ایک ظالم  شخص  ہی غیر عادل ہوتا ہے ۔ یعنی وہ انصاف کرنے کی بجائے  ذیادتی کرتا ہے ۔ ان لوگوں  کی صحیح  تر سائیکالوجی کو سمجھنے کے لیے  ہمیں عدل  یا انصاف کی تعر یف کو جاننے کی ضرورت ہے ۔  آیئے ایک مثال کے ساتھ انصاف کی وضاحت کرتے ہیں ۔

انصاف  کیا ہے اور ظلم کیا ہے؟

فرض کیجیے  : ایک  جج  ہے جس نے دو فریقوں  کے مابین  فیصلہ کرنا ہے  ۔ دونوں فریقوں میں سے ایک فریق ہے وہ  شخص ہے جس کا بھائی  قتل ہوا ہے ۔ اور دوسرا فریق قاتل اور اس کا باپ ہے ۔ اور یہ  دوسرا فریق جو قاتل  اور اس کا باپ ہے ،خود جج صاحب کا ہی بیٹا  اور پوتا ہے ۔  اب سارے گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی  میں یہ بات واضح  ہو جاتی ہے کہ قاتل  جج صاحب  کا پوتا ہی ہے ۔ اور  انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جج اپنے بیٹے اور پوتے کے خلاف فیصلہ سنائے ۔  تو اس صورت میں  یہ عدل ہو گا ،  انصاف ہو گا ۔

لیکن اگر جج سارے  دلائل اور ثبوتوں  کے واضح ہو جانے کے باوجود ان کو جھٹلا دے  اور اپنے بیٹے اور پوتے کی محبت میں ایسا فیصلہ سنائے  جس سے بات ٹل جائے یا انصاف  ہوتا  معلوم نہ ہو تو اب اس نے عدل نہیں بلکہ اپنی نفسانی  خواہش  کی پیروی کرتے ہوئے ظلم و ذیادتی کا ارتکاب کیا ہے ۔ انصاف صرف وہ ہے  جو ثبوتوں  اوردلائل  کی پیروی  کرے ۔ کسی بھی قسم کی خواہش کی طرف جھک جانا  انصاف کے علاوہ بات ہے ۔ اور انصاف کے علاوہ جو ہو گا ،وہ ظلم ہو گا ۔

عدل ہی تو ایمان ہے:

  یہ انصاف صرف کسی  قاضی یا بڑے بادشاہ کو ہی لوگوں کے درمیان نہیں کرنا ہوتا ۔  بلکہ یہ انصاف ہر شخص کو اپنی زندگی کے ہر چھوٹے  سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے  معاملے میں کرنا  ہوتا ہے ۔

مثا ل کے طور پر اگر آذان ہو رہی  ہے اور کوئی  مسلمان  شخص یہ جانتا ہے کہ یہ اس کے رب کی پکار ہے  اور اسے اس پکار پر  اس کے  سامنے  عاجزی  سے حاضر  ہونا ہے ۔ تو انصاف کا تقاضا تو یہ  ہے کہ  وہ آذان سنتے ہی نماز کی تیاری میں  مصروف  ہو جائے  لیکن دوسری طرف اس کا نفس ہے،  جو اسے آذان  سن لینے کے باوجود اس بات پر  اکساتا ہے کہ وہ اس  وقت نماز  پڑھنے کے بجائے  سوجائے ۔

ا ب وہ شخص اگر حق جانتا ہے تو  انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ  اپنے نفس کی خواہش کی  طرف نہ جھکے بلکہ حق  کا فیصلہ کرے  اور نماز پڑھے۔ لیکن اگر وہ حق کو پس پست  ڈال کر اپنی خواہش کو فوقیت دیتا ہے  اور  سو جاتا ہےتو وہ بلاشبہ غیر عادل  شخص ہے جس نے حق کو جان  لینے کے باوجود انصاف کا  فیصلہ نہیں  کیا بلکہ ظلم و ذیادتی کا مرتکب ہوا ہے اور یہ ظلم وہ خود کے ساتھ ہی کرتا ہے ۔

یہ کمزور لوگ بھی خود ہی ذمےدار ہیں:

 یہ خود کے ساتھ  ذیادتی  والا  فیصلہ انسان کا خود ہی اپنے لیے ہوتا ہے  ۔ دوسروں پر  ڈال کر تو وہ صرف عذر پیش کرتا ہے  ۔ جیسے بادشاہ اور سرداروں نے اپنے باپ دادا  پر ڈالا اور معاشرے کے یہ کمزور مگر  غیر عادل لوگ جو ان سرداروں  کی پیروی  کرتے ہیں  وہ انہیں سرداروں  پر ڈالتے ہیں کہ ہمارے  سرداروں نے ایسا کیا تھا  اور ہمیں  بھی یہی  حکم دیا تھا ۔  جبکہ حقیقت یہ  ہے کہ ان کی پیروی کرنے کا  یہ فیصلہ  وہ خود  ہی اپنی  خواہشات  کی وجہ سے کرتے ہیں   او ر وہ  خودہی  اس کے  ذمے دار ہوتے ہیں ۔سرداروں سے لیکر ان کی پیروی  کرنے والے معاشرے کے تمام  فاسق لوگ جو حق کو جھٹلاتے ہیں ، ان کے رویے اور عذر کو  اللہ سبحان وتعالیٰ   نے قرآن  میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔

اور سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو  کمزور  لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو ( دنیا میں )  تکبر کرتے تھے :    بیشک ہم تو تمہارے تابع  تھے، پھر کیا تم ہم سے اللہ کا کچھ عذاب  دور کر سکتے ہو ؟   وہ کہیں گے :  اگر اللہ ہمیں ہدایت  دیتا تو  ضرور تمہیں ہدایت کرتے : اب ہمارے لیے برابر ہے  خواہ ہم روئیں، پیٹں یا  صبر کریں ، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ۔ جب فیصلہ  چکا دیا جائے گا  تو شیطان کہے گا:  بیشک اللہ  نے تم سے سچا وعدہ  کیا تھا  اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا  اُسکی میں نے خلاف ورزی  کی اور میرا تم پر  کوئی زور نہیں تھا  ، مگر  یہ کہ میں نے تمہیں  دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی ، چنانچہ تم مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ کو ملامت کرو ۔ میں تمہارا    فر یاد رس نہیں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو ۔بلا شبہ میں تو اس کا انکار کرتا ہوں جو تم اس سے پہلے مجھے ( اللہ کا ) شریک ٹھہراتے تھے۔ بیشک  ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ 
(ابراہیم   - 21 ،  22   )

نتیجہ:

ہمارا پہلا سوال یہ تھا کہ :

وہ کون لوگ ہیں جو علم و عقل دونوں چیزیں موجود ہونے کے باوجود حق کو جھٹلاتے ہیں  اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ؟

دو آرٹیکلز ۷ اور ۸ میں ا س کا جواب مکمل  طور پر ہمارے لیے واضح ہو گیا ہے کہ:  

معاشرے کے   بڑے  لوگ جو متکبر  اور ظالم ہوتے ہیں، سے لے کر   وہ تمام لوگ جو انہی کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ  "فاسقین”   یعنی غیر  عادل   اور ظالم  ہوتے ہیں  ۔ یہی ہیں  جو علم و عقل  دونوں چیزیں موجود  ہونے کے باوجود حق کے تمام دلائل کو جھٹلاکر ظلم کا فیصلہ کر تے ہیں  اور اللہ پر جھوٹ باند ھتے   ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ:

جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ سب کے سب بنیادی طور پر "فاسقین” یعنی  انصاف نہ کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔"فسق” ہی وہ بنیادی بات ہے جو اللہ سبحان و تعالیٰ نے  ان سب ہی کے لیےیکساں طور پر  کہی ہے۔

اختتام:

اس آرٹیکل کے اختتام پر  ایک سے ذیادہ گذشتہ سوالات ہیں  جن کو واضح کر کے لکھنا  ضروری ہے  تاکہ اگلے آرٹیکل کو روانی کے ساتھ پڑھنے والوں تک پہنچایا جا سکے۔

ایک بات:

"وہ کون لوگ ہوتے ہیں ؟"کے  بعد ہمارا  دوسرا سوال یہ تھا:

۲) وہ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں؟

اس آرٹیکل میں  تمام غیر عادل لوگوں کے رویوں  اور وجوہات کے مطالعہ سے یہ بات کہ” وہ ایسا کیوں کرتے ہیں  ؟”کچھ حد تک ہمارے لیے واضح تو ہوئی ہے لیکن اس کو  مزید جاننے کی ضرورت ہے  کیونکہ دنیا کی لالچ اور اقتدار کی خواہش کے علاوہ بہت ساری اور بھی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ نا انصافی کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔  غیر منصف لوگ ہی ایسا کرتے ہیں یہ تو ہم جان گئے ہیں لیکن  "وہ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں ؟”اس کو مکمل طور پر جاننا ابھی باقی ہے۔

اور تیسرا سوال یہ تھا کہ:

۳) کیا یہاں وہ اپنا کوئی اختیار استعمال کرتے ہیں؟

 جہاں تک  تعلق ہے تیسرے سوال کا  تو اس آرٹیکل کی تفصیلات سے معلوم ہو رہا  ہے کہ جو لوگ  نا انصافی کا فیصلہ کر رہے ہیں وہ  بحرحال فیصلہ تو کر رہے ہیں ۔ تو  کیا فیصلہ کرنا وہ اختیار ہے جو انسان کے پاس موجود ہے؟کیا واقعی میں یہ  اختیار ہی ہے؟

دوسری بات:

آخر میں بیان کی گئی سورۃ ابراہیم کی یہ آیتیں ہمارے سامنے ایک نئی  بات لارہی ہیں جس پر غوروفکر کی ضرورت ہے ۔ اگر شیطان انسان کو  بہکا رہا  ہے اور ان کے فیصلے پر اثر انداز ہو رہا ہے تو پھر  انسان   یہ فیصلہ  خود کیسے کر رہا ہے؟   

 اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ نہ  ہی بادشاہ  اور سردار  عام لوگوں کے فیصلوں کے ذمے دار ہیں، نہ ہی شیطان ان تمام انسانوں  کے فیصلے کا ذمے دار ہے ۔ سب ایک دوسرے سے بری ہیں۔  انسان تو ایک دوسرے کے فیصلوں سے بری ہیں یہ سمجھ میں آگیا ہے  کیونکہ وہ خود ہی اپنی دنیاوی خواہش کی وجہ سے کسی دوسرے کی پیروی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

لیکن شیطان  کیسے  انسان کے فیصلے سے بری ہے جبکہ وہ اس کو بہکا بھی رہا ہے؟

اگلے آرٹیکلز کی  پیشگی ترتیب:

اگلے آرٹیکل میں ہم دوسرے سوال” وہ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں ؟” کے مکمل جواب کے لیے اقتدار  اور طا قت کے علاوہ تمام وجوہات پر تفصیل سے غوروفکر کریں گے۔ 

اس کے بعد انسان اور شیطان کے  مابین  کشملش کی ساری تفصیلات  جاننے کے لیے اپنے رب کے کلام  ہی کی طرف رجوع کریں گے۔ ان شاءاللہ!

یہ ساری باتیں فلٹر کرنے کے بعد ہی ہمارے لیے واضح ہو سکے گا کہ"ان لوگوں کا کوئی اختیار ہے یا نہیں؟”

Who is a Believer

ایمان والا کون ہے

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-9

مسلمان ہونا ،نسل اور ذات  پات کے نظام کی طرح  دنیا  میں شناخت کی  علامت تو ہوسکتی ہے   لیکن اللہ کے ہاں ایمان والا کون ہے؟ اس بات کا تعین […]

Non-Believers are Cruel and Arrogant

حق کا انکار کرنے والے ظالم اور متکبر

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-7

انسان کا غلطی کر دینا ایک لازمی امر ہے۔ کیونکہ وہ انسان ہے، فرشتہ نہیں۔  انسان سے خطا ء ہو جانے کے بعدہی تو اصل معاملہ شروع ہوتا ہے۔ خطاء کار  […]

light that continues

ایک نور مسلسل

سیریز : بادشاہِ حقیقی
آرٹئکل-6

علم محض الفاظ کا ذخیرہ نہیں،  بلکہ یہ وہ بصیرت ہے جو ایک نور مسلسل کی  طرح انسان پر نچھاور ہوتی  ہے۔ جو اس روشنی کو استعمال کر کے دیکھنا […]